سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی پھانسی سے متعلق وہ سوالات جن کے جواب اب تک نہیں مل سکے

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے دو شہریوں کو پھانسی دی گئی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مرد اور ایک خاتون نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر۔
- بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پھانسیوں سے پہلے اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
- یہ معاملہ بنگلہ دیش میں بہت زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کرتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے دو شہریوں کو پھانسی دی گئی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مرد اور ایک خاتون نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’فحش (غیراخلاقی یا نا مناسب)‘ فعل کا ارتکاب کیا تھا، تاہم حکام نے تاحال عوامی طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ فعل کیا تھا۔
بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پھانسیوں سے پہلے اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ بنگلہ دیش میں بہت زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کرتے ہیں۔
پھانسیوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، لیکن اب بھی کئی اہم سوالات کے جواب سامنے نہیں آئے۔
ان پر کیا الزام تھا؟سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دونوں بنگلہ دیشی شہریوں نے ایک مسجد کا تقدس پامال کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انھیں اسلامی قانون کی ایک شق کے تحت سزائے موت سنائی گئی، جس میں سزا کے تعین کا اختیار جج کو حاصل ہوتا ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزا جرم کی سنگینی اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی کہ یہ ایک مقدس مقام پر ہوا۔
تاہم سعودی حکام نے شواہد، عدالتی کارروائی یا اپیل کے عمل سے متعلق کوئی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کیں۔
یہ خبر قارئین کی بروقت آگاہی اور عوامی مفاد کے لیے خودکار سسٹم کے ذریعے شایع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق اشاعتی ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










