زمرہ: Indian History
شمالی علاقہ جات کی آزادی (۲۷)
الحاق کے اعلان کے فوری بعد گلگت ایجنسی کے مسلمانوں نے آزاد کشمیر کی طرز پر ہری سنگھ کی فورس سے بغاوت کر دی۔ 17 جولائی کو جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم نے اعلان کیا تھا کہ مہاراجہ کی ...
کشمیر ۔ الحاق (۲۶)
جموں و کشمیر کی صورتحال میں بڑی تبدیلی 22 اکتوبر 1947 کو آئی۔ اس روز تین ہزار پختون قبائلی کشمیر میں داخل ہوئے۔ پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ رضاکار تھے۔ ان کو پاکستان نے گزرنے تو...
کشمیر ۔ آزاد کشمیر کا قیام (۲۵)
ہری سنگھ اچھے منتظم کی شہرت رکھتے تھے لیکن وہ برِصغیر میں ہونے والی تبدیلیوں سے اچھی آگاہی نہیں رکھتے تھے۔ مختلف اطراف سے آنے والے پریشر کا شکار ہری سنگ تذبذب کا شکار تھے۔ ان کی ...
کشمیر ۔ ابتدائی مسائل (۲۴)
آج جب ہم بادی النظر میں الحاقِ کشمیر معاملے کو پاکستان کے نکتہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہ کہنا آسان ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے اس ریاست کو پکا ہوا پھل سمجھا تھا جو جھولی میں گر جا...
کشمیر ۔ مہاراجہ کا مخمصہ (۲۳)
مہاراجہ ہری سنگھ کے لئے کرنے کے لئے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ شاید، ان کی خواہش “ڈوگرستان” بنانے کی تھی جس میں جموں، کشمیر، کانگرا، مشرقی کاٹھوا شامل ہوں۔ کشمیر کے اہم سیاستدان شیخ عبدال...
کشمیر ۔ بلوچستان (۲۲)
جب پاکستان بنا تو بلوچستان کے چار حصے تھے۔ پہلا حصہ برطانوی بلوچستان کہلاتا تھا۔ اس میں شمالی بلوچستان کے پختون علاقے اور چاغی تھا۔ دوسرا لیزڈ علاقے جن میں کوئٹہ، نوشکی اور نصیرآب...
کشمیر ۔ شہزادوں کی مجلس (۲۱)
مسلم لیگ کا موقف زیادہ سے زیادہ حصے کو پاکستان کا علاقہ بنانے کا تھا۔ زیادہ سے زیادہ میں غیرمنقسم پنجاب (جس میں امرتسر بھی تھا)، غیرمنقسم بنگال (جس میں کلکتہ بھی تھا)، شمال مغربی س...
کشمیر ۔ آزادی ہند (۲۰)
لندن میں بادشاہ جارج ششم نے 18 جولائی 1947 کو آزادی ہند ایکٹ پر دستخط کر دئے۔ برٹش کا انڈیا چھوڑ جانا طے ہو گیا۔ پہلے اس خطے کو دو نئے ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ بھارت اور پاکستان۔ ...
کشمیر ۔ راج کا خاتمہ (۱۹)
دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ برٹش راج خاتمے کو ہے۔ 1947 کے آغاز میں یہ ظاہر تھا کہ انڈین سیاستدانوں کو برٹش انڈیا کے بارے میں فیصلے لینے ہیں۔ اور نوابی ریاستو...
کشمیر ۔ کشمیر چھوڑو تحریک (۱۸)
کشمیر کی 1931 میں ہونے والی بغاوت تو فرو کر دی گئی لیکن دہلی حکومت اور برٹش ریزیڈنٹ کی طرف سے مہاراجہ پر اصلاحات کا شدید دباوٗ آیا۔ اس کے نتیجے میں بادلِ نخواستہ کچھ اختیارات پرجا...
کشمیر ۔ ڈوگرہ راج کو چیلنج (۱۷)
برٹش ڈوگرہ مہاراجوں کے مضبوط حمایتی رہے لیکن درمیان میں مسائل بھی آتے رہے۔ 1889 سے 1905 تک مہاراجہ پرتاب سنگھ کو ایک طرف کر کے کونسل آف سٹیٹ نے ریاست کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا...
کشمیر ۔ نقشے کی جارحیت (۱۶)
جب 1889 میں برٹش نے گلگت ایجنسی بنائی، اس وقت ریاستِ جموں و کشمیر کے تین صوبے تھے۔ جموں، کشمیر اور فرنٹئیر ڈسٹرکٹ۔ سرکاری طور پر تو یہ سب کچھ مہاراجہ کے پاس تھا لیکن کئی جگہوں پر ا...











